Notification texts go here Contact Us Buy Now!

ہمیں یہ کیسے معلوم ہوا کہ زمین ساڑھے چار ارب سال پرانی ہے؟

Dil pakistani

معلومات
ہمیں یہ کیسے معلوم ہوا کہ زمین ساڑھے چار ارب سال پرانی ہے؟

آئیے یہ دیکھتے ہیں کہ سائنس دان کیوں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ زمین ساڑھے چار ارب سال پرانی ہے – عمر کا یہ اندازہ یکدم نہیں لگایا گیا بلکہ جیسے جیسے نئے آلات اور نئی ٹیکنیکس ایجاد ہوتی گئیں ویسے ویسے سائنس دانوں نے بتدریج زمین کی عمر کے اندازے کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کی – تو آئیے اس ریسرچ کو اس کے آغاز سے دیکھتے ہیں

انیسویں صدی کے آغاز میں چارلس لائل نے سسلی کے جزیرے میں موجود ایٹنا نامی آتش فشاں پہاڑ کا بغور معائنہ کیا اور اس آتش فشاں پہاڑ کے پھٹنے کی تاریخ مرتب کی – اس نے یہ نوٹ کیا کہ اس پہاڑ پر ہر دفعہ لاوا کی نئی تہہ جمتی تھی جس وجہ سے ہر انفجار کے بعد اس پہاڑ کی بلندی میں اضافہ ہو جاتا تھا – چنانچہ اس پہاڑ کی بلندی، لاوا کہ تہوں کی موٹائی اور اس کے پھٹنے کی تاریخی شرح کو ملا کر اس نے یہ نتیجہ نکالا کہ یہ آتش فشاں پہاڑ کم از کم کئی لاکھ سال سے مسلسل پھٹ رہا ہے – اس آتش فشاں کے کنارے پر لاوا کی سب سے پہلی اور پرانی تہہ کے نیچے اسے مچھلیوں اور گھونگھوں کے بہت سے فاسلز ملے جو کہ بحیرہِ روم کے گھونگھوں سے ملتے جلتے تھے – اس سے اس نے یہ اندازہ لگایا کہ یہ فاسلز بہت زیادہ پرانے نہیں ہو سکتے چنانچہ اس نے یہ نتیجہ نکالا کہ اس آتش فشاں پہاڑ کی چند لاکھ سال کی عمر زمین کی عمر کے تناسب سے بہت کم ہے – دوسرے الفاظ میں اس نے یہ نتیجہ نکالا کہ زمین ہمارے اس وقت کے اندازے سے لاکھوں گنا زیادہ پرانی ہے – اس زمانے میں عیسائی مشنریوں کا دعویٰ تھا کہ زمین محض چھ ہزار سال پرانی ہے – لائل کی اس ریسرچ کے بعد مشنریوں کے اس بیان پر یقین رکھنا ناممکن ہو گیا

سنہ 1862 میں لارڈ کیلون نے (جو کہ گلاسگو یونیورسٹی میں نیچرل فلاسفی کے پروفیسر تھے اور دنیا کے بہترین ماہرِ طبعیات تسلیم کیے جاتے تھے) دعویٰ کیا کہ انہوں نے پگھلی ہوئی زمین کے ٹھنڈا ہو کر ٹھوس بن جانے کا دورانیہ کیلکولیٹ کر لیا ہے – انہوں نے یہ دورانیہ دو کروڑ سے چالیس کروڑ سال کے درمیان قرار دیا – بعد میں انہوں نے اپنی کیلکولیشنز میں بہتری لانے کا دعویٰ کیا اور اس دورانیے کو 2 سے دس کروڑ سال اور مزید بہتری کے بعد دو سے چار کروڑ سال بتلایا – جب سائنس دانوں نے تابکاری کا مظہر دریافت کیا تو سائنس دانوں کو یہ معلوم ہوا کہ زمین کے اندر موجود یورینیم میں تابکاری کی وجہ سے زمین میں حرارت مسلسل پیدا ہو رہی ہے جس وجہ سے زمین اس تیزی سے ٹھنڈی نہیں ہو سکتی جس تیزی سے لارڈ کیلون نے اندازہ لگایا تھا – چنانچہ لارڈ کیلون کی کیلکولیشنز سے زمین کی کم سے کم ممکنہ عمر کا اندازہ تو لگایا جا سکتا ہے لیکن اس کی اصل عمر کا اندازہ لگانا مشکل ہے

آئرلینڈ کے ایک جیالوجسٹ سیموئل ہاٹن نے کیلکولیٹ کیا کہ سمندر کہ تہہ میں مٹی یعنی sediment کی اونچائی میں تقریباً آٹھ ہزار چھ سو سال میں ایک فٹ کا اضافہ ہوتا ہے – چنانچہ اس بنا پر اس نے زمین کی عمر کا اندازہ کم از کم دو ارب سال لگایا – تاہم یہ اس وقت کے زمین کے عمر کے اندازوں سے اس قدر مختلف تھا کہ اسے خود بھی اپنی اس کیلکولیشن پر یقین نہیں آیا اور اس نے بغیر کسی دلیل کے زمین کی عمر کے اندازے کو دس گنا کم کر دیا اور اسے 20 کروڑ سال پرانی قرار دیا

جب یورینیم کی تابکاری کی دریافت ہوئی اور یورینیم کی ہاف لائف کی پیمائش ممکن ہو گئی تو زمین کی عمر کا اندازہ لگانا قدرے آسان ہو گیا – اب صرف اس بات کی ضرورت تھی کہ زمین کی تشکیل کے وقت زمین پر موجود یورینیم کی مقدار کا تخمینہ لگایا جائے اور تابکاری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ہیلیئم گیس کی مقدار کا اندازہ لگایا جائے (یورینیم کے تابکاری کے دوران الفا پارٹیکلز خارج ہوتے ہیں جو کہ ہیلیئم کے مرکزے ہوتے ہیں) – بیسویں صدی کے آغاز میں ردرفوڈ نے زمین میں ہیلیئم اور ریڈیم کی مقدار کا اندازہ لگایا اور اس سے زمین کی عمر کا اندازہ 50 کروڑ سال لگایا – ایک اور سائنس دان سٹرٹ نے یہ دعویٰ کیا کہ جب ہیلیئم کی مقدار کا اندازہ لگانے کے لیے چٹانوں کے سیمپلز کو پیس کر پاؤڈر کی شکل میں تیار کیا جاتا ہے تو اس عمل کے دوران بہت سی ہیلیئم گیس ضائع ہو جاتی ہے جس وجہ سے زمین کی عمر کا اندازہ اصل عمر سے کم حاصل ہوتا ہے – چنانچہ زمین کی اصل عمر ہیلیئم کی مقدار سے کئے گئے اندازے سے کہیں زیادہ ہونا چاہیے – تاہم اسے یہ علم نہیں تھا کہ اس غلطی کی مقدار کتنی ہے

بعد ازاں سائنس دانوں نے یہ دریافت کیا کہ یورینیم کی تابکاری کے دوران سیسے یعنی lead کی ایک مخصوص مقدار بھی وجود میں آتی ہ

إرسال تعليق

Cookie Consent
We serve cookies on this site to analyze traffic, remember your preferences, and optimize your experience.
Oops!
It seems there is something wrong with your internet connection. Please connect to the internet and start browsing again.
AdBlock Detected!
We have detected that you are using adblocking plugin in your browser.
The revenue we earn by the advertisements is used to manage this website, we request you to whitelist our website in your adblocking plugin.
Site is Blocked
Sorry! This site is not available in your country.