انسان کا اصل دشمن کوئی باہر کی طاقت نہیں بلکہ اس کا اپنا آپ ہے،
شیطان کو ہم نے بلا سوچے سمجھے ایک عام سا کردار بنا دیا ہے، گالی دینے کے لیے، الزام ڈالنے کے لیے، اپنی ہر کوتاہی اور ہر لغزش اس کے کھاتے میں ڈالنے کے لیے، حالانکہ اگر ذرا سا ٹھہر کر غور کیا جائے تو شیطان اتنا سادہ اور سطحی نہیں جتنا ہم نے اپنے بیانیے میں بنا رکھا ہے، وہ ایک عظیم ہستی ہے، ایک گواہ ہے، ایک دیکھنے والا ہے، اس نے کائنات کو بنتے دیکھا ہے، اس نے تخلیق کے مراحل دیکھے ہیں، اس نے عروج و زوال کو اپنی آنکھوں سے گزرتے دیکھا ہے، اسی لیے وہ ہر ایک کا دشمن نہیں ہوتا، وہ صرف اسی انسان کی زندگی میں آتا ہے جو واقعی انسان بننے کے سفر پر ہو۔ ایک ایسا انسان جو عرفانِ خودی کے راستے پر نکلتا ہے، جو خود شناس بنتا ہے، جو روح شناس ہونے لگتا ہے، جو اپنی ذات کے پردے ہٹاتا ہے اور اپنے اندر کے اندھیروں سے ٹکرا جاتا ہے، شیطان اسی انسان کو آزماتا ہے، اسی کے راستے میں آتا ہے، کیونکہ وہ مُردوں سے نہیں لڑتا، وہ زندہ روحوں کا سامنا کرتا ہے، جو پہلے ہی اپنی ہی ذات کے ہاتھوں مر چکے ہوں، جو پوری زندگی سنی سنائی باتوں پر گزار دیں، جو اپنے من، اپنی نیت، اپنی کمزوریوں کی کبھی خبر نہ لیں، جو سوال کرنا چھوڑ ...

