
مقدمہ:
آج کی سائنس فکشن فلموں میں ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ ایک انسان یا چیز ایک جگہ غائب ہو کر فوراً دوسری جگہ نمودار ہو جاتی ہے۔ اسے سائنسی اصطلاح میں "ٹیلی پورٹیشن" (Teleportation) کہا جاتا ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ آج سے ہزاروں سال قبل قرآن مجید نے ایک ایسے ہی حیران کن واقعے کا ذکر کیا ہے جو بظاہر ٹیلی پورٹیشن لگتا ہے؟ حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور میں ملکہ بلقیس کے تخت کا پلک جھپکتے میں یمن سے یروشلم (فلسطین) منتقل ہونا ایک ایسا واقعہ ہے جس نے مفسرین اور سائنسدانوں دونوں کو دعوتِ فکر دی ہے۔
قرآنی واقعہ (سورۃ النمل کی روشنی میں):
قرآن مجید کی سورۃ النمل (آیات 38-40) میں یہ واقعہ بیان ہوا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے دربار میں پوچھا کہ ملکہ بلقیس کے آنے سے پہلے کون اس کا تخت میرے پاس لائے گا؟
ایک طاقتور جن (عفریت) نے کہا: "میں آپ کے دربار برخاست ہونے سے پہلے اسے لے آؤں گا۔"
لیکن اس کے فوراً بعد "جس کے پاس کتاب کا علم تھا" (مفسرین کے مطابق یہ حضرت سلیمان کے وزیر آصف بن برخیا تھے) اس نے کہا:
"میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اسے آپ کے پاس لے آؤں گا۔"
اور اگلے ہی لمحے تخت وہاں موجود تھا۔
کیا یہ سائنسی "ٹیلی پورٹیشن" تھی؟
اسے سمجھنے کے لیے ہمیں پہلے دیکھنا ہوگا کہ جدید سائنس ٹیلی پورٹیشن کو کیسے بیان کرتی ہے۔
سائنسی نظریے کے مطابق، ٹیلی پورٹیشن کا عمل تین مراحل پر مشتمل ہوتا ہے:
ڈی میٹریلائزیشن (Dematerialization): یعنی مادے (Matter) کو توانائی (Energy) میں تبدیل کرنا۔
ٹرانسمیشن (Transmission): اس توانائی کو روشنی کی رفتار سے دوسری جگہ منتقل کرنا۔
ری میٹریلائزیشن (Rematerialization): منزل پر پہنچ کر اس توانائی کو دوبارہ اسی ترتیب میں مادے (جسم) میں ڈھال دینا۔
کوانٹم فزکس (Quantum Physics) میں سائنسدانوں نے "کوانٹم ٹیلی پورٹیشن" کے ذریعے فوٹونز (Photons) یا ایٹموں کی معلومات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، لیکن کسی ٹھوس چیز (جیسے کرسی یا تخت) کو مکمل طور پر غائب کر کے دوسری جگہ فوراً ظاہر کرنا فی الحال سائنسی طور پر ناممکن ہے۔ ہائزن برگ کے اصول (Uncertainty Principle) اور اربوں کھربوں ایٹمز کا ڈیٹا پروسیس کرنا موجودہ ٹیکنالوجی کی دسترس سے باہر ہے۔
قرآن اور سائنس کا تعلق: معجزہ یا ٹیکنالوجی؟
یہاں ایک بہت باریک لیکن اہم نقطہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کیا تختِ بلقیس کا واقعہ کوئی سائنسی ٹیکنالوجی تھی؟
تحقیقی جواب: قرآن مجید نے اسے کسی مشین یا ٹیکنالوجی سے منسوب نہیں کیا، بلکہ اسے "کتاب کے علم" (عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ) کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
روحانی قوانین بمقابلہ طبعی قوانین: سائنس طبعی قوانین (Physical Laws) کے تحت کام کرتی ہے، جس میں وقت اور فاصلہ رکاوٹ ہیں۔ جبکہ تخت کا واقعہ "خارقِ عادت" (Miracle/Karamah) تھا۔ یہ اللہ کی دی ہوئی روحانی طاقت تھی جس نے مادے (Matter) اور وقت (Time) کے قوانین کو مات دے دی۔
کوانٹم فزکس اور امکان: سائنس یہ کہتی ہے کہ اگر ہمارے پاس لامحدود توانائی اور ڈیٹا پروسیسنگ ہو تو "نظریاتی طور پر" (Theoretically) ٹیلی پورٹیشن ممکن ہے۔ قرآن نے یہ واقعہ بیان کر کے یہ ثابت کر دیا کہ "مادے کی فوری منتقلی" (Matter Transfer) اس کائنات میں ممکن ہے۔ یعنی یہ عمل "ناممکنات" میں سے نہیں ہے۔
فرق: سائنسدانوں کو ٹیلی پورٹیشن کے لیے مشینری، انرجی اور ڈیٹا کی ضرورت ہے، جبکہ "صاحبِ علم" نے یہ کام اللہ کے اذن اور روحانی قوت (اسمِ اعظم) کے ذریعے کیا۔
نتیجہ:
ہم تختِ بلقیس کے واقعے کو جدید اصطلاح میں سمجھانے کے لیے "ٹیلی پورٹیشن" کا لفظ استعمال کر سکتے ہیں، کیونکہ "نتیجہ" (Result) وہی تھا جو ٹیلی پورٹیشن کا ہوتا ہے—یعنی چیز کا فوری انتقال۔ لیکن اس کا "طریقہ کار" (Method) سائنسی نہیں بلکہ روحانی اور معجزاتی تھا۔
اس واقعے سے یہ ٹھوس بات ثابت ہوتی ہے کہ:
مادے کو توانائی میں بدلنا اور دوبارہ مادہ بنانا کائنات کے نظام میں ممکن ہے۔
انسان (یا صاحبِ علم) اگر اللہ سے جڑ جائے تو وہ وقت اور فاصلے کی قید سے آزاد ہو سکتا ہے، جہاں جدید سائنس شاید ہزاروں سال بعد پہنچے۔
قرآن سائنس کی کتاب نہیں بلکہ "نشانیوں" (Signs) کی کتاب ہے، لیکن اس کی بیان کردہ کوئی حقیقت سائنسی مسلمات سے نہیں ٹکراتی، بلکہ سائنس ابھی تک قرآن کے بیان کردہ حقائق کی گرد کو بھی نہیں پا سکی ہے۔
خلاصہ: تختِ بلقیس کا واقعہ اللہ کی قدرت کا مظہر تھا جو ثابت کرتا ہے کہ اس کائنات کے فزیکل قوانین (Physical Laws) اللہ کے خاص بندوں کے تابع کیے جا سکتے ہیں۔ سائنس اسے "کوانٹم ٹیلی پورٹیشن" کہے یا کچھ اور، قرآن نے 1400 سال پہلے بتا دیا کہ فاصلے سمٹ جانا ایک حقیقت ہے۔
ہیش ٹیگز:
#QuranAndScience #Teleportation #QueenSheba #SulaimanAS #QuantumPhysics #IslamicHistory #Miracles #ScienceUrdu #Tafseer #KnowledgeOfBook