انسان کا اصل دشمن کوئی باہر کی طاقت نہیں بلکہ اس کا اپنا آپ ہے،
شیطان کو ہم نے بلا سوچے سمجھے ایک عام سا کردار بنا دیا ہے، گالی دینے کے لیے، الزام ڈالنے کے لیے، اپنی ہر کوتاہی اور ہر لغزش اس کے کھاتے میں ڈالنے کے لیے، حالانکہ اگر ذرا سا ٹھہر کر غور کیا جائے تو شیطان اتنا سادہ اور سطحی نہیں جتنا ہم نے اپنے بیانیے میں بنا رکھا ہے، وہ ایک عظیم ہستی ہے، ایک گواہ ہے، ایک دیکھنے والا ہے، اس نے کائنات کو بنتے دیکھا ہے، اس نے تخلیق کے مراحل دیکھے ہیں، اس نے عروج و زوال کو اپنی آنکھوں سے گزرتے دیکھا ہے، اسی لیے وہ ہر ایک کا دشمن نہیں ہوتا، وہ صرف اسی انسان کی زندگی میں آتا ہے جو واقعی انسان بننے کے سفر پر ہو۔
ایک ایسا انسان جو عرفانِ خودی کے راستے پر نکلتا ہے، جو خود شناس بنتا ہے، جو روح شناس ہونے لگتا ہے، جو اپنی ذات کے پردے ہٹاتا ہے اور اپنے اندر کے اندھیروں سے ٹکرا جاتا ہے، شیطان اسی انسان کو آزماتا ہے، اسی کے راستے میں آتا ہے، کیونکہ وہ مُردوں سے نہیں لڑتا، وہ زندہ روحوں کا سامنا کرتا ہے، جو پہلے ہی اپنی ہی ذات کے ہاتھوں مر چکے ہوں، جو پوری زندگی سنی سنائی باتوں پر گزار دیں، جو اپنے من، اپنی نیت، اپنی کمزوریوں کی کبھی خبر نہ لیں، جو سوال کرنا چھوڑ دیں، وہ اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے۔
ہم روزمرہ زندگی میں کہتے ہیں یا اللہ، یا رسول، یا علی، یا حسن، یا حسین، اور لفظ یا محض ایک لفظ نہیں بلکہ پکار ہے، شعوری حاضری کا اعلان ہے، یہ ماننے کا اقرار ہے کہ جسے پکارا جا رہا ہے وہ زندہ ہے، حاضر ہے، سن رہا ہے، اس سے ربط قائم کیا جا رہا ہے، لیکن ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ یا ابلیس یا شیطان، کیونکہ ہم اسے حاضر مانتے ہی نہیں، ہم شعوری طور پر اسے موجود تسلیم نہیں کرتے، اس کے باوجود عجیب تضاد یہ ہے کہ ہم اپنی نیتوں میں، اپنے فیصلوں میں، اپنے اعمال میں اللہ اور ہدایت کی بجائے اسی کو شامل کر لیتے ہیں اور پھر اس کو کوستے رہتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ شیطان نہیں بلکہ انسان خود اپنا سب سے بڑا دشمن ہوتا ہے۔
ہم نے بچپن سے یہ جملہ سنا ہے کہ جو اللہ کے راستے پر آئے گا شیطان اسے بہکائے گا، مگر اس جملے پر کبھی ٹھہر کر غور نہیں کیا، کیونکہ سوال یہ ہے کہ جو شخص کبھی اس راستے پر آیا ہی نہیں، جو راستے کو جانتا ہی نہیں، جو ساری عمر آباؤ اجداد کی تقلید میں گزار دے، جو خرافات میں الجھا رہے، جو اپنی ذمہ داری قبول کرنا نہ سیکھے، اس کے راستے میں شیطان آئے گا ہی کیوں، وہ تو پہلے ہی اپنی ہی ذات کے ہاتھوں قید ہے۔
اسی لیے اہلِ بصیرت نے کہا کہ انسان کا اصل دشمن کوئی باہر کی طاقت نہیں بلکہ اس کا اپنا آپ ہے، وہ خود اپنی خواہشات، کمزوریوں، انا اور غفلت کا اسیر بن کر اپنی قبر خود کھودتا ہے اور پھر الزام کسی اور پر ڈال دیتا ہے، جیسے اس حکایت میں کہ ایک آدمی جنگل میں اکیلا جا رہا تھا، وہاں اس نے ایک گدھا دیکھا کوئی دیکھنے والا نہ تھا، اس کے اندر کی خواہش جاگی، اس نے انتہائی گھٹیا فعل کر ڈالا، فارغ ہو کر لاحول ولا قوۃ پڑھ کر شیطان کو موردِ الزام ٹھہرا دیا، تو شیطان سامنے آیا اور کہنے لگا کہ یہ کام تو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا، براہِ کرم مجھے اس میں شریک نہ کرو، یہ تمہاری اپنی ذات کا فعل تھا۔
شیطان کا شکار جانور نہیں ہوتا، وہ انسان ہوتا ہے، مگر ہر انسان نہیں، وہ انسان جو زندہ ہو، جو ابھی راستے میں ہو، جو ابھی خودی کے میدان میں سانس لے رہا ہو، کیونکہ سب سے بڑا جہاد باہر کا نہیں بلکہ اندر کا ہے، اپنی ہی ذات سے مقابلہ، اپنی ہی کمزوریوں کو پہچاننا، اپنی ہی انا کو توڑنا، یہی جہادِ اکبر ہے، یہی اپنی ہی وجود کے خیبر کو فتح کرنا ہے۔
اسی لیے جب حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ عبادت، ریاضت اور مجاہدے کے اعلیٰ مقامات طے کر چکے تو ابلیس تعریف کے پردے میں آیا اور کہنے لگا کہ عبدالقادر تم نے بہت عبادت کر لی، بہت ریاضت کر لی، اب تم اپنے مقام کو پا چکے ہو، اب بس کرو، تو آپ فوراً پہچان گئے، کیونکہ آپ جانتے تھے کہ قرآن نبیِ آخر الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیتا ہے وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِينُ، یعنی اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ تمہیں یقین آ جائے، جب عبادت سے رخصت نبیوں اور پیغمبروں کو نہیں ملی تو میں کون ہوتا ہوں، ابلیس نے کہا کہ عبدالقادر آج تمہارے علم نے تمہیں بچا لیا، تو آپ نے مسکرا کر جواب دیا کہ نہیں، مجھے میرے علم نے نہیں بچایا بلکہ مجھے میرے اللہ کی رحمت نے بچا لیا۔
اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے اہلِ تصوف میں روایت ملتی ہے کہ والدہ کے وصال کے بعد اللہ کی طرف سے حکم ہوا کہ اب ہدایت لے کر آیا کرو اور جو صبح سب سے پہلے تمہیں ملے اس سے ہدایت لینا، موسیٰ علیہ السلام نکلے تو سب سے پہلے ابلیس سے سامنا ہوا، انہوں نے اس سے منہ موڑ لیا اور کوہِ طور چلے گئے، اللہ نے پوچھا ہدایت لائے ہو، عرض کیا نہیں، فرمایا دوبارہ جاؤ، یہ معاملہ کئی دن تک چلتا رہا، آخر کار موسیٰ علیہ السلام رکے اور ابلیس سے بات کی، اس نے کہا موسیٰ تم روز اپنے رب کے پاس جاتے ہو، اسے جانتے ہو، میں بھی اسے جانتا ہوں، میں نے اس کائنات کو بنتے دیکھا ہے، اس نے تم جیسے کئی موسیٰ پیدا کیے ہیں اور مٹا دیے ہیں، اس لیے جب اس کے حضور جاؤ تو برابری کے وہم میں نہ جانا، طالب بن کر جانا، عاجزی میں رہنا، قدم ہمیشہ نیچے رکھنا، ۔
اسی تناظر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان اپنی پوری معنویت کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ میرے ابلیس نے میرے ہاتھ پر بیعت کر لی، یعنی جو بہکانے آیا تھا وہ خود مغلوب ہو گیا، اور یہی وہ مقام ہے جسے اقبال نے کہا کہ
حسنِ کردار سے نورِ مجسم ہو جا کہ
ابلیس بھی تجھے دیکھے تو مسلماں ہو جائے۔
لہٰذا شیطان کو برا کہنے سے پہلے، اس کو کوسنے سے پہلے، اس کے مقابل آنے کی بات کرنے سے پہلے، ضروری ہے کہ انسان پہلے اپنے آپ کو پہچانے، اپنی ذات سے لڑے، اپنی کمزوریوں کا سامنا کرے، کیونکہ انسان کا سب سے بڑا دشمن کوئی اور نہیں بلکہ وہ خود ہوتا ہے، اور شیطان کمزوروں سے نہیں لڑتا، وہ صرف ان کو آزماتا ہے جو واقعی زندہ ہوتے ہیں جو عرفان خودی کی منزلیں طے کرتے ہیں
#viralpost

Post a Comment