تو۔۔۔ تو یہاں کھیل رہی ہے اور میں نے تجھے کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا۔۔۔ چل۔۔۔ چل گھر چل!!! فقیرا آیا ہے تجھے لینے اس نے بھولی کا بازو مضبوطی سے جکڑ کر گھسیٹتے ہوئے کہا۔۔اسے پتہ ہی نہیں چلا وہ کب بستی کے بچوں کے ساتھ اچھلتی کودتی غبارے والے کے پیچھے پیچھے اتنی دور نکل آئی۔اسکا باپ بھی غبارے بیچتا کرتاتھا، رنگ برنگے غبارے۔
“اماں ۔۔۔ اماں چھوڑ میرا ہاتھ۔۔۔ اماں کھیلنے دے نا!! “اس نے جھنجلاتے ہوئے اپنا بازو چھڑانے کی ناکام کوشش کی لیکن اسکی پکڑ اور سخت ہو گئی۔وہ اسکے قدموں سے قدم ملانے کی ناکام کوشش کر تے ہوتے اسکے پیچھے پیچھے دوڑتی چلی جا رہی تھی۔ “اماں چھوڑ مجھے ۔۔۔ اماں مجھے نہیں جانا ابھی مجھے اور کھیلنا ہے ۔۔ ”
اسکے جھگی تک پہنچنے سے پہلے ہی فقیرا انتظار کر کر کے جا چکا تھا یہ دیکھ کر اسکا پارہ مزید چڑھ گیا وہ دانت پیستے ہوئے بولی “کتنی بار منع کیا ہےتجھے بستی میں ایسے مت گھومتی رہا کر ،بچی نہیں ہے اب تو اور تجھے میں بھولے کی رکھوالی کی خاطر پیچھے چھوڑ کر جاتی ہوں ورنہ تجھے بھی کب کا اپنے ساتھ برتن مانجھنے پر لگا چکی ہوتی۔اس نے جھٹکے سے بھولی کو جھگی میں دھکیلا اور دونوں ہاتھ اٹھا کر بلند آواز سے اپنی قسمت کو کوسنے لگی۔
ہائے۔۔!!! میرے پھوٹے نصیب تیرا باپ خود تو مر گیا اور تجھے میرے گلے ڈال گیا۔ غلطی ہو گئی مجھ سے ، مجھے پتہ ہوتا کہ اسے اتنی جلدی ہو گی مرنے کی تو کبھی شادی نہ کرتی میں اس سے، اور جاتے جاتے یہ ایک اور پھندہ میرے گلے میں ڈال گیا۔ اس نے بیمار بھولے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جس نے اپنے نام کی پکار سن کر حلقوں میں دھنسی ہوئی آنکھوں کو بہ مشکل کھولتے ہوئے اپنی ماں کی طرف یک بارگی دیکھا اور پھر سے آنکھوں کے پردے گرا کر منہ دوسری طرف موڑ لیا۔
وہ تلملاتی ہوئی “اماں اماں” پکارتی اس کے پیچھے پیچھے بڑھی جیسے ریل کے انجن کے پیچھے اسکے ڈبے۔
وہ اسکی سیٹی کی طرح کانوں میں چبھتی پکار سے تنگ آ کر پلٹی اورایک ہاتھ کمر پر اور دوسرا ہاتھ ہوا میں گھماتے ہوئے گرج کر بولی “ہاں بول۔۔۔بھولی یکدم سہم کر چپ ہو گئی اب بول نا کیا ہے؟ اس نے دھمکاتے ہوئے کہا “اماں جانے دے نا ۔۔!!” اس نےمنت کی ماں اسکی منت سماجت کو انتہائی بے رخی سے نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔”اماں تھوڑی دیر کھیل کر واپس آ جاؤں گی!!!” شنوائی نہ ہونے پر اس نے پھر سے عرضی دی۔لیکن جب کوئی اثرنہ ہوا تو اس نےپاؤں پٹختے ہوئے احتجاجاََ تنک کر کہا”جانے دے نا اماں۔۔۔!!”
“کلموہی تجھے بس اپنے ہی کھیل تماشوں کی پڑی رہتی ہے” اسکی بار بار کی تکرار سے زچ ہو کروہ غصے سے پھنکارتے ہوئے پلٹی اور اسکے گال پر ایک زور دار تھپڑ جڑ دیا ۔۔”کم بخت ماری بھائی کا کوئ خیال نہیں تجھے” اس نے بھولی کا بازو موڑ کر اسے دہرا کیا اور دو ہاتھ اسکی کمر پر بھی رسید کر دیے” آئندہ اگر تو مجھے بستی میں اچھلتی کودتی نظر آئی نا تو یاد رکھ ٹانگیں توڑ دوں گی تیری اور فقیرے کے ساتھ تو تجھے جانا ہی ہوگا اس نے فیصلہ کن لہجے میں کہا اب سے تو اسی کے ساتھ رہے گی ، سنا تو نے؟”اس نے دانت پیستے ہوئےموٹی موٹی آنکھیں نکال کر انگلی اٹھاتے ہوئے اسے دھمکایا۔
“تو کچھ بھی کہہ لے اماں میں فقیرے کے ساتھ نہیں جاؤں گی، اس نے بھی باغیانہ انداز اپناتے ہوئے اپنا حتمی فیصلہ سنا دیا۔وہ روتے روتے چلائی۔۔۔”کیا لگتا ہے وہ میرا ؟ کیوں جاؤں میں اس کے ساتھ؟” وہ غصے میں بولتی جا رہی تھی۔
“ہاں تو تُو میری بھی کیالگتی ہے ؟ ماں نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دے کر حساب برابر کرتے ہوئے کہا “میں کیوں رکھوں تجھے اپنے ساتھ؟ ویسے بھی اب مجھ سے تیرا خرچہ نہیں اٹھایا جاتا۔۔”
“جھوٹ مت بول اماں مجھ سے زیادہ تو تُو بھولے پر خرچ کرتی ہے پھر بھولے کو کیوں نہیں بھیج دیتی فقیرے کے ساتھ؟ تیرا خرچہ بھی کم ہو جائے گا” وہ بھی کب ہار ماننے والی تھے اس نے بھی جتا دیا۔۔کیا؟؟؟؟ بھولی کی بات سن کر اسے جیسے بجلی کا جھٹکا لگ گیا ہو وہ غصے سےبولی “کیا کہا تو نے؟ بھولے کو بھیج دوں فقیرے کے ساتھ؟ ؟ اری پاگل ہو گئی ہے کیا؟ وہ گلا پھاڑ کر چلائی ۔۔”تو چاہتی ہے کہ تیرا بھائی بھیک مانگے؟ ہم بھکاری بن کر رہیں؟”بھکاری؟بھیک ؟؟ ا س نے خوفزدہ ہوتے ہوئےزیرِ لب دہر ایا”لیکن ۔۔۔ پھر میں بھی کیوں۔۔۔۔۔؟”بھولا کیوں نہیں ؟؟ اس نے اچانک ہوش میں آتے ہوئے اپنے آنسو پونچھ کاعتراض کیا۔ “اور اسکا علاج کروا کے کرنا بھی کیا ہے تجھے؟ بیمار بچے پہ ترس کھا کر تو لوگ اور بھی زیادہ بھیک دیں گے ۔۔ بس تو بھولے کو بھیج دفق