Notification texts go here Contact Us Buy Now!
Posts

Dil pakistani




ق کے نام سے آباد تها، اس قبیلہ کی سردار کی بیٹی جویریہ بنت حارث امہات المومنین میں سے ہیں، اس قبیلے نے آپ ﷺ سے اسلام قبول کرنے کے بعد یہ کہا کہ آپ فلاں تاریخ کو اپنا قاصد بهیجیں تاکہ ہم اسے زکواۃ اکهٹی کر کے دے دیں، مقرر تاریخ کو آپ ﷺ نے حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زکوٰۃ کی وصولی کہ لیے بهیجا، راستے کے قریب پہنچ کر ولید بن عقبہ کو خیال آیا کہ اس قبیلے سے میری پرانی دشمنی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ مجھے قتل کر دیں، چونکہ وہ قبیلے والے لوگ بستی سے باہر مقرر تاریخ پر قاصد کے استقبال کے جمع تهے، چنانچہ ولید بن عقبہ راستے سے واپس آ گئے، اس واقعہ میں ساری غلط فہمی جو پیدا ہوئی اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ کسی نے ولید بن عقبہ کو بتا دیا ہو کہ یہ لوگ تم سے لڑنے کے لیے جمع ہیں اور آپ واپس آگئے اور آپ ﷺ سے جا کر کہا کہ ان لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا ہے، اور میرے قتل کا ارادہ کیا، اس لیے میں واپس آ گیا آپ ﷺ کو یہ سن کر غصہ آیا، آپ نے ایک لشکر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں روانہ کیا، دوسری طرف قبیلے کے لوگوں نے مقرر تاریخ پر قاصد کے نا آنے پر ایک وفد تشکیل دے کر آپ ﷺ کی طرف روانہ کیا کہ حال معلوم کریں قاصد کیوں نہیں آیا، اور راستے میں دونوں کا آمنا سامنا ہوا، قبیلے کے وفد نے لشکر والوں سے پوچھا کہ آپ لوگ ہم پر چڑھائی کرنے آئے ہو؟
 لشکر والوں نے جواب دیا؛ کہ آپ لوگوں کی طرف ایک قاصد آیا تها لیکن آپ لوگوں نے اس پر حملہ کرنے کے لیے لشکر اکهٹا کر لیا, قبیلے والوں نے جواب دیا؛ کہ ہمارے پاس تو کوئی قاصد نہیں آیا اور نہ ہم نے حملہ کے لیے لشکر اکهٹا کیا تها، ہم تو مقرر تاریخ پر قاصد کے استقبال کے لیے جمع ہوئے تهے، اس پر حقیقت حال کهلی، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے واپس آ کر آپ ﷺ کو پورا واقعہ سنایا،دسمبر 26, 2017
اس موقع پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی،
 یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَکُمۡ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا اَنۡ تُصِیۡبُوۡا قَوۡمًۢا بِجَہَالَۃٍ فَتُصۡبِحُوۡا عَلٰی مَا فَعَلۡتُمۡ نٰدِمِیۡنَ :6 اے ایمان والو ! اگر جب تمہارے پاس کوئی غیر ذمہ دار آدمی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو; کہیں ایسا نہ ہو کہ تم ناسمجھی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا دو پھر اپنے کیے پر شرمندہ ہوتے پھرو. “مفہوم آیت الحجرات” اس آیت میں ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کو یہ ہدایت دیدی کہ ایسا نا ہو کہ جو بات کسی سے سن لی بس، اس پر یقین کر لیا، اور اس بات کو آگے چلتا کر دیا، اور اس خبر کی بنیاد پر کاروائی شروع کردی، ایسا کرنا 

حرام ہے…!!




http://www.ajiboye.com/affiliate-partners?aid=naseerzaman0


Post a Comment

Cookie Consent
We serve cookies on this site to analyze traffic, remember your preferences, and optimize your experience.
Oops!
It seems there is something wrong with your internet connection. Please connect to the internet and start browsing again.
AdBlock Detected!
We have detected that you are using adblocking plugin in your browser.
The revenue we earn by the advertisements is used to manage this website, we request you to whitelist our website in your adblocking plugin.
Site is Blocked
Sorry! This site is not available in your country.